۱۔ عورت کا اپنے حق کے دفاع کے لیے نامحرم سے ہم کلام ہونا

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  نے فرمایا: عورت ے لیے بہترین حالت یہ ہے کہ نہ وہ نا محرم کو دیکھے اور نہ ہی نامحرم اسے دیکھے، لیکن جب آپ معاشرے کے منحرف ہونے کا مشاہدہ کرتی ہیں اور دیکھتی ہیں کہ ان کے شوہر کا حق ضایع ہو رہا ہے تو گھر سے باہر آتی ہیں اور ملاء عام میں لوگوں سے ہم کلام ہوتی ہیں۔

۲۔ باہر جاتے وقت مقعنہ پہننا

جب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے مسجد کی طرف جانے کا ارادہ کیا تاکہ ابوبکر اور دوسرے لوگوں سے ہم کلام ہوں تو اپنے سر پر مقنعہ پہنا۔

روایت میں مذکور ہے: “انہ لمّا اجمع ابوبکر و عمر علیٰ منع فاطمۃ علیہا السلام فدکاً و بلغہا ذلک لاثت خمارہا علیٰ رأسہا” (جیسے ہی ابوبکر و عمر نے ارادہ کیا کہ فاطمہ علیہا السلام کو فدک سے محروم کریں اور یہ خبر آپ تک پہنچی تو اپنا مقنعہ اپنے سر پر ڈالا)۔ احتجاج طبرسی، احتجاجات فاطمہ زہرا علیہا السلام، ص ۱۳۱سے ۱۳۲ تک

شیخ طبرسیؒ نے اپنی سند کے ساتھ امام باقر علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: “فاطمۃ سیدۃ نساء اہل الجنۃ، وما کان خمارہا الّا ہکذا؛ و او ما بیدہ الی وسط عضدہ” (فاطمہ سلام اللہ علیہا بہشتی عورتوں کی سردار ہیں، اور ان کا مقنعہ اس طرح تھا۔ آپ نے اپنے بازؤں کے درمیان تک اشارہ کیا۔) مکاررم الاخلاق، طبرسی، ص ۹۳

۳۔ چادر کو بڑا کرکے اوڑھنا

حضرت زہرا علیہا السلام  اپنی چادر کو بڑا کرکے اوڑھتی تھیں تاکہ پاأں کے اوپر تک آجائے “تطأ ذیولہا”۔  چادر کے نیچے والے حصے کو پاؤں کے اوپر تک رکھتی تھیں۔  احتجاج طبرسی، ج۱، ص ۱۳۱