علی علیہ السلام اور مال دنیا

الکافی کی ایک روایت کا ماحصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ امیر المومنین علیہ السلام پھٹی ہوئی قمیص پہنے لوگوں کے پاس سے گزرے تو لوگوں نے کہا: علی ؑ بڑا مفلس ہے۔ اُس کے پاس پہننے کے لیے ڈھنگ کی قمیص تک نہیں ہے۔

حضرت علی علیہ السلام نے اپنے ملازمین کو حکم دیا کہ وہ جو صدقہ کی کھجوریں چنتے ہیں وہ کسی ضرورت مند تک نہ پہنچائیں بلکہ اُنہیں فروخت کرکے رقم لائیں۔

ملازمین نے کھجور چُن کر فروخت کردیں اور درہم لے آئے۔ دو دن تک کھجوریں بکتی رہیں اور یوں اچھی خاصی رقم جمع ہوگئی۔

حضرت علی علیہ السلام نے لوگوں کو بلایا اور درہموں کو پاؤں کی ٹھوکر ماری اور فرمایا: لوگو! دیکھ لو، علی ؑ غریب نہیں ہے، اگر میں یہ رقم اپنے پاس رکھنا چاہوں تو میں بھی دولت مند کہلا سکتا ہوں، لیکن میں پسند کرتا ہوں کہ غرباء و یتامی کی امداد کروں۔

پھر آپؑ نے اپنے باغ کے ملازمین سے فرمایا: یہ رقم اٹھاؤ اور غرباء و یتامیٰ کے درمیان جاکر تقسیم کردو۔

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: “ینبع” کے مقام پر حضرت علی علیہ السلام کی جاگیر تھی۔ اس سے سالانہ جو غلہ حاصل ہوتا تھا اس کی قیمت چالیس ہزار دینار ہوتی تھی۔ آپؑ ساری دولت راہِ خدا میں صدقہ کر دیتے تھے۔

علی علیہ السلام اور حلم و درگذر

کتاب شریف بحار الانوار میں نہج البلاغہ کے حوالے سے مرقوم ہے کہ حضرت ؑ اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے سامنے سے ایک حسین عورت کا گزر ہوا، جسے اُن لوگوں نے دیکھنا شروع کیا، جس پر حضرتؑ نے فرمایا:

“ان مردوں کی آنکھیں تاکنے والی ہیں اور یہ نظر بازی اُن کی خواہشات کو برانگیختہ کرنے کا سبب ہے، لہذا اگر تم میں سے کسی کی نظر ایسی عورت پر پڑے کہ جو اُسے اچھی معلوم  ہو تو اُسے اپنی زوجہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، کیونکہ یہ عورت بھی عورت کے مانند ہے”۔

یہ سن کر ایک خارجی نے کہا: خدا اس کافر کو قتل کرے یہ کتنا بڑا فقیہ ہے۔

یہ سن کر لوگ اُسے قتل کرنے کے لیے اُٹھے۔ آپؑ نے فرمایا: ٹھہرو! زیادہ سے زیادہ گالی کا بدلہ گالی ہوسکتا ہے یا پھر اُس کے گناہ سے ہی درگزر کرو۔

حضرت قنبرؓ کا بیان ہے کہ میں امیر المومنین علیہ السلام کے ساتھ حضرت عثمان کے پاس گیا۔ خلیفہ نے چاہا کہ خلوت ہو۔

امیر المومنین علیہ السلام نے مجھے اشارہ کیا تو میں کچھ دور چلا گیا۔ خلیفہ نے حضرت علی علیہ السلام پر عتاب کیا۔ آپؑ خاموشی سے سر جھکائے اُس کی کڑوی کسیلی باتیں سنتے رہے۔

خلیفہ نے کہا: آپؑ خاموش کیوں بیٹھے ہیں؟ بولتے کیوں نہیں؟

آپؑ نے فرمایا: میرا جواب تجھے پسند ہی نہیں آئے گا۔ میرے پاس تمہاری پسندیدہ بات موجود نہیں ہے۔

بحار میں مرقوم ہے کہ امیر المومنین علی علیہ السلام کھجور فروشوں کے پاس سے گزرے۔ آپؑ نے دیکھا کہ ایک کنیز رو رہی ہے۔

آپؑ نے فرمایا: اے کنیز! تو کیوں رو رہی ہے؟

اس نے جواب دیا کہ میرے مالک نے ایک درہم دے کر مجھے روانہ کیا اور کہا کہ اس سے کھجوریں خرید کر لاؤ۔ میں یہاں آئی اور میں نے اس دکاندار سے کھجوریں خریدیں، لیکن وہ کھجوریں مالک کو پسند نہ آئیں۔ اس نے مجھے کہا: جاؤ یہ کھجوریں واپس کرو اور رقم لے کر آؤ۔ میں کھجوریں لے کر اس کے پس آئی۔ اُس نے کھجوریں لینے سے انکار کردیا ہے اور اب یہ مجھے درہم واپس کرنے پر راضی نہیں ہے۔

امیر المومنین علی علیہ السلام نے دکاندار سے فرمایا: بندۂ خدا! یہ بیچاری نوکرانی ہے۔ تم اس سے اپنی کھجوریں واپس لے لو اور اُسے درہم واپس لوٹا دے۔

دکاندار نے آپؑ سے بد اخلاقی کی۔ لوگ آگے بڑھے اور اُسے بتایا کہ جن سے تو تلخ کلامی کررہا  ہے یہ خلیفۃ المسلمین اور امیر المومنین علیہ السلام ہیں۔

دکاندار نے یہ سنا تو اُس کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا اور اس نے کنیز کو درہم واپس کیا اور کہنے لگا: امیر المومنینؑ! مجھ سے گستاخی ہوئی ہے۔ میں آپؑ سے معافی چاہتا ہوں۔

آپؑ نے فرمایا: لوگوں کو اُن کے حقوق دو گے تو میں تم سے راضی ہوجاؤں گا۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپؑ نے اپنے ایک غلام کو کئی بار آوازیں دیں، لیکن اُس نے کوئی جواب نہ دیا۔ آپؑ اٹھے اور دیکھا کہ وہ گھر کے دروازے پر موجود تھا۔ آپؑ نے فرمایا: تو نے میری آوازوں کا جواب کیوں نہ دیا؟

اُس نے جواب دیا کہ مجھ سے جواب دینے میں سستی ہوئی ہے۔ مجھے آپؑ کی عقوبت کا کوئی خوف نہیں ہے۔

آپؑ نے فرمایا: تمام حمد اُس خدا کے لیے ہے جس نے مجھے ایسا بنایا کہ اُس کی مخلوق مجھ سے خوف زدہ نہیں ہے۔ پھر آپؑ نے غلام سے فرمایا: جاؤ میں نے تمہیں رضائے خداوندی کے لیے آزاد کردیا ہے۔

بھار میں اصبغ بن نباتہ کی زبانی یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ امیر الومنین علی علیہ السلام نے ہمیں کوفہ سے مدائن جانے کا حکم دیا۔ ہم اتوار کے دن کوفہ سے روانہ ہوئے۔ عمرو بن حریث اپنے سات دوستوں کے ساتھ ہم سے علیحدہ ہوا اور وہ حیرہ کے قریب خورنق کے مقام پر گئے اور یہ طے کیا کہ ہم یہاں رہ کر سیر و سیاحت کریں گے، پھر بدھ کے دن یہاں سے روانہ ہوکر نمازِ جمعہ میں حضرت علی علیہ السلام  کے ساتھ جاکر مل جائیں گے۔

وہ آٹھوں افراد کھانا کھا رہے تھے کہ ایک سوسمار ظاہر ہوئی۔ اُنھوں نے اُسے پکڑلیا۔ عمرو بن حریث نے گستاخی کرتے ہوئے کہا: آؤ اس کی بیعت کریں، یہ امیر المومنین ہے۔ چنانچہ عمرو سمیت اُس کے ساتھیوں نے سوسمار (گوہ) کی بیعت کی۔ پھر وہ بدھ کے دن وہاں سے روانہ ہوئے اور نمازِ جمعہ کے وقت مدائن میں پہنچے اور مسجد کے دروازے پر گئے۔

امیر المومنین علی علیہ السلام نے اُن کی طرف دیکھ کر فرمایا:

“لوگو! رسول اکرم ﷺ نے مجھ سے ایک ہزار راز کی باتیں کی تھیں اور ہر بات کے ایک ہزار دروازے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِہِمْ}

“قیامت کے دن ہم تمام لوگوں کو اُن کے امام کے نام سے پکاریں گے”۔

میں تمہارے سامنے خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم میں آٹھ افراد ایسے ہیں بھی ہیں جنہیں قیامت کے دن سوسمار کے پیروکاروں کے نام سے پکارا جائے گا۔ کیونکہ سوسمار اُن کا امام ہوگا اور اگر میں چاہوں تو اُن کے نام بھی بتا سکتا ہوں۔

اصبغ بیان کرتے ہیں کہ جب عمرو بن حریث نے مولاؑ کا یہ کلام سنا تو یوں زمین پر گرا جیسے تیز ہوا میں کھجور کا درخت گرتا ہے۔

علی علیہ السلام اور یقین

بحار الانوار ، جلد نہم میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  سے منقول ہے، آپؑ نے فرمایا: حضرت علی علیہ السلام کا ایک غلام تھا جس کا نام قنبرؓ تھا۔ اُسے آپ ؑ سے والہانہ محبت تھی۔ حضرت علی علیہ السلام جہاں جاتے وہ تلوار لے کر آپؑ کے پیچھے چلتا۔ ایک رات آپؑ کہیں جانے لگے تو قنبرؓ حسبِ عادت آپؑ کے پیچھے روانہ ہوا۔

حضرت ؑ نے اسے آواز دیکر فرمایا: قنبرؓ! کیا بات ہے؟

قنبرؓ نے عرض کیا: مولاؑ! زمانہ آپؑ کا دشمن ہے، اسی لیے میں آپؑ کی حفاظت کے لیے آپؑ کے پیچھے آرہا ہوں۔

آپؑ نے فرمایا: تم مجھے آسمان والوں سے بچاؤ گے یا زمین والوں سے؟

قنبرؓ نے عرض کیا: میں زمیں والوں سے آپؑ کی حفاظت کروں گا۔

آپؑ نے فرمایا: زمین والے مجھے اس وقت تک کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے جب تک آسمانوں کے مالک کا اِذن شامل نہ ہو، لہذا تم واپس چلے جاؤ۔

حضرت قنبرؓ واپس چلے گئے۔ جنگِ صفین میں آپؑ سے یہ کہا گیا کہ آپؑ اپنے لیے محافظ قرار کریں۔ ہمیں اندیشہ ہے کوئی لعین آپؑ کو شہید نہ کردے۔

آپؑ نے فرمایا: موت ہی سب سے بڑی محافظ ہے۔ ہر انسان کے ساتھ خدا نے کچھ فرشتے مقرر کیے ہیں جو کہ اسے کنوئیں میں گرنے سے بچاتے ہیں اور دیوار کے نیچے آنے اور کسی مصیبت میں مبتلا ہونے سے بچاتے ہیں اور جب مقررہ وقت آجاتا ہے تو وہ اس سے ہٹ جاتے ہیں۔ جب میرا مقررہ وقت آئے گا تو دنیا کا بدبخت ترین شخص اُٹھے گا اور وہ میری ریش کو میرے سر کے خون سے خضاب کرے  گا۔ یہ ایک عہد ہے اور یہ ایسا عہد ہے جس کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی۔

حوالہ؛ امام علیؑ، آیت اللہ قزوینی