۱) قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ أَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ ذٰلِکَ أَزْکٰی لَہُمْ إِنَّ اللہ خَبِیْرٌم بِمَا یَصْنَعُوْنَ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُنَّ وَلَایُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلاَّ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوبِہِنَّ وَلَایُبْدِیْنَ زِینَتَہُنَّ إِلاَّ لِبُعُوْلَتِہِنَّ أَوْ آبَائِہِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِہِنَّ أَوْ أَبْنَائِہِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِہِنَّ أَوْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِیْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِیْ أَخَوَاتِہِنَّ أَوْ نِسَائِہِنَّ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُنَّ أَوِ التَّابِعِیْنَ غَیْرِ أُولِی الْإِرْبَۃ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلاَیَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ وَتُوْبُوا إِلَی اللہ جَمِیْعًا أَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔

“آپ مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کو بچا کر رکھیں یہ ان کے لیے پاکیزگی کا باعث ہے۔اور مومنہ عورتوں سے بھی دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کو بچائے رکھیں اور اپنی زیبائش کی جگہوں کو ظاہر نہ کریں سوائے اسکے جو خود ظاہر ہو اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی زیبائش کو ظاہر نہ ہونے دیں سوائے اپنے شوہروں آبا ء شوہر کے آبا ء اپنے بیٹوں، شوہر کے بیٹوں اپنے بھائیوں بھائیوں کے بیٹوں بہنوں کے بیٹوں اپنی ہم صنف عورتوں، اپنی کنیزوں، ایسے خادموں جو عورتوں کی خواہش نہ رکھتے ہوں اور ا ن بچوں کے جو عورتوں کی پردے کی بات سے واقف نہ ہوں اور مومن عورتوں کو چاہیے کہ چلتے ہوئے اپنے پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ ان کی پوشیدہ زینت ظاہر ہو جائے۔اور اے مومنو سب مل کر اللہ کے حضور توبہ کرو امید ہے کہ تم فلاح پا ؤ گے۔ (سورہ نور :۳۰،۳۱)

(۲) یَاأَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ أَدْنٰی أَنْ یُّعْرَفْنَ فَلاَیُؤْذَیْنَ وَکَانَ اللہ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔

“اے نبی! اپنی ازواج اور بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادریں تھوڑی نیچی کر لیا کریں۔ یہ امر ان کی شناخت کے لیے (احتیاط کے) قریب تر ہو گا۔ پھر کوئی انہیں اذیت نہیں دے گا۔ اور اللہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔” (سورہ احزاب :۵۹)

(۳) وَإِذَا سَأَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابٍ ذٰلِکُمْ أَطْہَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوبِہِنَّ۔

 “اور جس وقت وسائل زندگی میں سے کوئی چیز عاریتاً ان رسول کی بیویوں سے طلب کرو درمیان میں پردہ حائل ہونا چاہیے یہ کام تمہارے اور انکے دلوں کو زیادہ پاک رکھتا ہے۔” (سورہ احزاب :۵۳)

(۴) وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَاتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃ الْأُوْلَی۔

“اور اپنے گھروں میں جم کر بیٹھی رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح اپنے آپ کو نمایاں نہ کرتی پھرو۔” (سورہ احزاب :۳۳)

(۵) وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللاَّ تِیْ لاَیَرْجُوْنَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ أَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍم بِزِیْنَۃ وَأَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّہُنَّ وَاللہ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔

“اور جو عورتیں ضعف السنی کی وجہ سے گھروں میں خانہ نشین ہو گئی ہوں اور نکاح کی توقع نہ رکھتی ہوں ان کے لیے اپنے حجاب کے اتار دینے میں کوئی حرج نہیں۔ بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ تاہم عفت کاپاس رکھنا ان کے حق میں بہتر ہے اور اللہ بڑا سننے والا جاننے والا ہے۔” (سورہ نور:۶۰) پردہ ہر زمانہ میں شافت و عظمت کی نشانی سمجھا جاتا رہا ہے اسلام نے اس کا حکم دے کر ایک عورت کی عظمت کی حفاظت کی ہے۔ پردہ چادر برقعہ دو پٹہ غرضیکہ ایسا کپڑا جس سے عورت کا بدن اور اس کے بال نظر نہ آئیں۔ ۱)حکم ہے کہ نرم لہجہ میں ہنستے ہوئے غیر مردسے بات نہ کریں۔ ارشاد رب العزت ہوتا ہے :

 فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہِ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۔

 “نرم لہجہ میں بات نہ کرو کہیں وہ شخص لالچ میں نہ پڑ جائے جس کے دل میں بیماری ہے اور معمول کے مطابق باتیں کیا کرو۔” (سورہ احزاب : ۳۲) ۲  میک اپ بن سنور کا بازار یا باہر کسی جگہ جانا ممنوع ،زینت صرف شوہروں کے لیے ہونا چاہیے۔ہاں محرموں کے سامنے آنے میں کوئی حرج نہیں۔ وَلاَیُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلاَّ لِبُعُوْلَتِہِنَّ۔ “اپنی زیبائش کو ظاہر نہ ہونے دیں مگر شوہروں اور محرموں کے لئے۔”(سورہ نور:۳۱)

۳) چلتے ہوئے کوئی ایسی علامت نہیں ہونی چاہیے جس سے لوگ متوجہ ہوں مثل پاؤں زور سے مارنا پا زیب یا اس طرح کا زیور جس سے آواز پیدا ہو  پرفیوم عطریات جس سے لوگ خصوصی توجہ شروع کریں۔ ارشاد رب العزت ہوتا ہے : لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ۔ “جس سے پوشیدہ زینت ظاہر ہو جائے۔ ” (سورہ نور:۳۱)

۴)ایسی چادر دوپٹہ اوڑھیں جس سے بدن کے اعضا سینہ گردن بال ظاہر نہ ہوں۔ ارشاد ِ رب العزت ہے :

وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّ۔

“اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی زیبائش ظاہر نہ ہونے دیں۔(نور:۳۱)

۵)ا رشادِ رب العزت ہے :

 یُدْنِینَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیبِہِنَّ ذَلِکَ أَدْنَی أَنْ یُعْرَفْنَ۔

اپنی چادر اور اوڑھنی اس طرح ڈالے رکھیں تاکہ ان کی پہچان ہو سکے۔

۶) ارشاد رب العزت ہے :

فَاسْأَلُوہُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ۔

 عورتوں سے ضرورت کی کوئی چیز طلب کرنا ہو تو پردہ یا دروازے کے پیچھے رہ کر طلب کرو۔ (احزاب :۵۳)

۷)بناؤ سنگھار کے ساتھ باہر نکلنا اسلام سے پہلے کا (جاہلیت)طور طریقہ ہے، اسلام کے بعد ایسا کرنا گویا جاہلیت کی طرف پلٹناہے۔ ارشاد رب العزت ہوتا ہے :

وَلاَتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃ الْأُوْلٰی

“قدیم جاہلیت کی طرح اپنے آپ کو نمایاں نہ کرتی پھرو “۔(سورہ احزاب ۳۳)

آخر بحث میں رسول اعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کا فرمان و جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کا جواب :

قال رسول اللہ لابنتہ فاطمۃعلیھا السلام ایُّ شیء خیر للمرئۃ قالت ان لا تری رجلا ولا یراھا رجل۔

رسول اعظم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے اپنی بیٹی فاطمہ زہرا سے پوچھا کہ عورت کے لیے سب سے بہتر کیا ہے؟ عرض کیا عورت مرد کو نہ دیکھے اور مرد اس عورت کونہ دیکھ سکے۔ عورت کی عظمت جناب سیدہ سلام اللہ علیہا جن کی تعظیم کے لیے رسول اعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)بنفس نفیس کھڑے ہو جاتے تھے ،اے بیٹی !اے ماں! جس قدر سیرت زہرا پر عمل ہو گا اسی قدر تیری عزت و عظمت ہو گی۔

 

حوالہ http://www.erfan.ir