16 جولائی 1939 عیسوی کو ایران کے مقدس شہر مشہد میں ایک بچے نے آنکھیں کھولیں جو کچھ سال بعد عالم اسلام کی عظیم ہستی اور ایران کا رہبر انقلاب بنا۔ حجت الاسلام و المسلمین الحاج سید جواد حسینی خامنہ ای نے اپنے اس دوسرے فرزند کا نام سید علی رکھا۔ انھوں نے کمسنی سے ہی اپنے فرزند کی تربیت اور خاص طور پر اسلامی معارف سے روشناس کرانے کے سلسلے میں خاص توجہ دی۔ سید علی نے چار سال کی عمر سے اپنی تعلیم کا آغاز قرآن کی تلاوت سیکھنے سے کیا۔ اس کے بعد نو تشکیل شدہ اسلامی اسکول ‘دار التعلیم دیانتی’ میں پرائمری کی تعلیم حاصل کی۔

“وہ دن جب ہمیں پہلی دفعہ پرائمری اسکول لے گئے بڑا اچھا دن تھا۔ بڑے شور شرابے والا دن تھا۔ بچے کھیل رہے تھے، ہم بھی کھیل رہے تھے۔ ہماری کلاس کا کمرہ کافی بڑا تھا، البتہ اس وقت کی میری بچپن کی نگاہ کے اعتبار سے۔ پہلی کلاس کے بچوں کی کافی تعداد تھی۔ اب غور کرتا ہوں تو شاید تیس چالیس بچے رہے ہوں گے۔ ہم پہلی کلاس کے بچے تھے۔ یہ بڑے جوش و خروش والا دن تھا۔ اس دن سے متعلق کوئی بری یاد میرے ذہن میں نہیں ہے۔”

سید علی نے پرائمری کی تعلیم حاصل کر لینے کے بعد مڈل اسکول کی تعلیم حاصل کی اور معمول کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ہی مدرسہ نوّاب میں دینی تعلیم کا بھی آغاز کر دیا۔

“پانچویں اور چھٹی کلاس کے اواخر میں مجھے ریاضیات اور جغرافیا سے خاص لگاؤ ہو گيا، تاریخ سے بھی مجھے گہری دلچسپی تھی، ارتھمیٹک سے خاص دلچسپی تھی۔ البتہ دینی دروس میں بھی میں بہت اچھا تھا۔ قرآن بلند آواز میں پڑھتا تھا۔ میں مدرسے کا قاری تھا۔ اس زمانے میں ہمیں ایک دینی کتاب پڑھائی جاتی تھی جس کا نام تھا تعلیمات دینی، اس زمانے کے لئے بڑی اچھی کتاب تھی۔ وہ کتاب چند فصول پر مشتمل تھی میں ایک ایک فصل کرکے اس کتاب کو زبانی یاد کر رہا تھا۔”

جس زمانے میں پہلے پہلوی بادشاہ رضاخان نے مقامی ثقافت کو تبدیل کرنے کے مقصد سے پروپیگنڈے اور طاقت کا استعمال کرکے ایران میں غیروں کا کلچر عام کرنے کی کوشش کی جناب سید علی کے والد الحاج آقا سید جواد خامنہ ای نے اس تباہ کن لہر کی مخالفت کی اور اپنے بچوں کو دینی طالب علم بنا دیا۔

“میرے والد، رضاخان پہلوی کے ہر اقدام کے مخالف تھے۔ منجملہ لباس کے اعتبار سے مماثلت و یک رنگی پیدا کرنے کا اقدام تھا۔ انھیں ہرگز یہ بات پسند نہیں تھی کہ ہم لوگ وہ لباس پہنیں جو رضاخان جبرا مسلط کرنا چاہتا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ رضاخان نے عوام کے موجودہ لباس کو جو اس وقت فرنگی لباس مانا جاتا تھا اور یورپ سے آیا تھا، جبرا لوگوں پر مسلط کر دیا۔ ایرانیوں کا اپنا لباس تھا اور وہ وہی لباس پہنتے تھے۔ اس نے سب کو مجبور کیا یہ لباس اختیار کرنے پر، یہ ٹوپی لگانے پر۔ میرے والد کو یہ بات ہرگز پسند نہیں تھی۔ اسی لئے آپ نے ہمارے لئے وہی دینی طلبہ والا لباس پسند کیا۔ تاہم ان کا ارادہ تھا کہ مجھے وہ علم دین سے آراستہ کریں گے۔ یہ میرے والد کی بھی خواہش تھی اور میری والدہ کی بھی خواہش تھی۔ چنانچہ پرائمری کی پانچویں کلاس سے میں نے عملی طور پر مدرسے میں علم دین حاصل کرنا شروع کر دیا۔”

ذی فہم اور سمجھدار، آگاہ اور بچوں کی خوش بختی کے لئے فکرمند والدین کا کردار ہمیشہ بہت فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔ سید علی صاحب کی زندگی میں بھی اس رہنمائی اور اس کردار کو بہت اعلی درجے پر دیکھا جا سکتا ہے۔ آپ نے علم دین کے ابتدائی دروس اپنے والد گرامی سے پڑھے۔ یہی وجہ ہے کہ علم دین میں ان کی پیشرفت کی رفتار بہت زیادہ تھی اور اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے وہ ‘درس خارج’ سے قبل کی تمام درسی سطوح مکمل کر چکے تھے اور ‘درس خارج’ یا اجتہادی درس کا آغاز کر چکے تھے۔ اس زمانے میں مغرب زدہ شاہی نظام جو تمام تر دینی عقائد و جذبات سے عاری تھا، اس کوشش میں لگا ہوا تھا کہ منصوبہ بند طریقے سے معاشرے کی فضا اور خاص طور پر عمومی مقامات کی شکل و شمائل کو نفسانی شہوت سے آلودہ کر دے۔ یہی وجہ تھی کہ دیندار افراد کے لئے اپنا خالی وقت عمومی مقامات پر گزارنا مشکل ہو گیا تھا۔ اس زمانے میں سید علی کا بہترین وقت طلبہ کے درمیان علمی بحثوں میں گزرتا تھا۔

“میری نوجوانی کے ایام میں طلبہ کے ماحول میں تفریح طلبہ کے اجتماع کی صورت میں ہوتی تھی، ہمارے مدرسے کے اندر طلبہ جمع ہو جاتے تھے، ایک مدرسہ تھا مدرسہ نواب، ہم وہاں جاتے تھے، طلبہ کا ماحول ہمارے لئے بڑا شیریں ماحول تھا۔ طلبہ آپس میں جمع ہو جایا کرتے تھے، گفتگو ہوتی تھی اطلاعات و معلومات کا تبادلہ ہوتا تھا، سب باتیں کرتے تھے۔ مدرسے کا ماحول طلبہ کے لئے کسی ورزش گاہ جیسا ہوتا تھا۔  خالی وقت میں سب وہاں جمع ہو جایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ مشہد میں مسجد گوہر شاد بھی جمع ہونے کی بہت اچھی جگہ تھی۔ وہاں بھی دیندار افراد، طلبہ اور علماء آتے تھے، بیٹھتے تھے اور آپس میں علمی بحثیں کرتے تھے۔”

علماء کا لباس کبھی بھی نوجوانی کی سرگرمیوں، کھیل کود اور ورزش میں رکاوٹ نہیں بنتا تھا۔ سید علی عالم دین کے لباس میں بھی تمام دروس بڑی دلچسپی سے  پڑھتے تھے۔ نوجوانی کے ایام میں سید علی کا ایک اہم شوق تھا غیر درسی کتب کا مطالعہ اور ایران و جہان کے مفکرین کے افکار و نظریات سے آگاہی حاصل کرنا۔

سید علی اٹھارہ سال کی عمر میں ایک طرف انٹرمیجیئٹ کی تعلیم مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے اور دوسری جانب درس خارج سے قبل کی درسی سطحوں کو اپنے والد گرامی اور مشہد کے حوزہ علمیہ کے دیگر اساتذہ کی مدد سے مکمل کرنے میں بھی کامیاب ہوئے۔ دینی طالب علم کی حیثیت سے سید علی کی تعلیم کا آغاز ہوا تو ساڑھے پانچ سال سے زیادہ وقت نہیں لگا کہ انھوں نے ‘درس خارج’ سے پہلے کی تمام سطوح کو مکمل کر لیا۔ آپ نے درس خارج کی تعلیم مشہد کے معروف مرجع تقلید آیت اللہ میلانی مرحوم کی خدمت میں شروع کی اور 1958 میں قم چلے گئے۔ دنیائے تشیع کی دینی درسگاہوں اور علمی مراکز سے آشنائی اور وہاں کے طرز تدریس سے آگاہی کا شوق 1957 میں سید علی کو نجف اشرف کھینچ لے گیا۔ وہاں انھوں نے تقریبا دو سال قیام کیا اور نامور اساتذہ کے دروس میں شرکت کی۔ آیت اللہ خامنہ ای 1958 سے 1964 تک قم میں فقہ و اصول و فلسفہ کی اعلی تعلیم اور اجتہادی بحثوں میں مصروف رہے۔ انھوں نے آیت اللہ العظمی بروجردی مرحوم، امام خمینی، شیخ مرتضی حائری یزدی اور علامہ طباطبائی سے کسب علم کیا۔ 1964 میں اپنے والد گرامی سے ہونے والی خط و کتابت کے ذریعے انھیں معلوم ہوا کہ آنکھوں کے موتئے کی بیماری کی وجہ سے والد کی ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی ہے۔ اس خبر سے انھیں بڑا صدمہ پہنچا اور وہ اس سوچ میں پڑ گئے کہ قم کی دینی درسگاہ میں رک کر اعلی سطحی اجتہادی بحثوں میں مصروف رہیں یا والد کی دیکھ بھال کے لئے مشہد لوٹ جائیں۔ آخرکار وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ خوشنودی پروردگار کی خاطر قم سے مشہد جائیں اور والد کی دیکھ بھال کریں۔

“میں مشہد چلا گيا اور اللہ تعالی نے ہمیں بڑی توفیقات سے نوازا۔ بہرحال میں اپنے فرض اور ذمہ داری کے احساس کے تحت گیا تھا۔ اگر مجھے زندگی میں کچھ توفیقات حاصل ہوئی ہیں تو میرے خیال میں اسی نیکی کا نتیجہ ہے جو والد کے حق میں بلکہ والد اور والدہ کے حق میں میں نے کی۔”

اس اہم موڑ پر جہاں دو راستے سامنے تھے آیت اللہ خامنہ ای نے صحیح راستے کا انتخاب کیا۔ بعض اساتذہ اور آشنا افراد کو بے حد افسوس تھا کہ وہ اس عجلت میں قم کی درسگاہ کو کیوں ترک کر رہے ہیں؟! لیکن مستقبل نے ثابت کر دیا کہ ان کا انتخاب بالکل درست تھا۔ اللہ نے ان کی تقدیر ایک الگ انداز سے لکھی تھی جو ظاہری اندازوں اور تخمینوں سے بالاتر تھی۔

اس زمانے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پچیس سالہ نوجوان عالم دین جو رضائے پروردگار کی خاطر اپنے ماں باپ کی خدمت کے لئے قم سے مشہد جا رہا ہے 25 سال بعد رہبر انقلاب اسلامی کے اعلی منصب پر فائز ہوگا۔

البتہ آیت اللہ خامنہ ای نے مشہد میں بھی اپنی تعلیم جاری رکھی۔ تعطیل کے ایام، انقلابی جدوجہد کے ایام، جیل میں گزارے گئے وقت اور سفر میں گزرنے والے وقت کے علاوہ بقیہ اوقات میں وہ 1968 تک مشہد کے بزرگ علمائے کرام بال‍خصوص آیت اللہ میلانی سے کسب فیض کرتے رہے۔ 1964 میں انھوں نے والدین کی خدمت اور کسب علم کے ساتھ ہی فقہ و اصول اور دینی معارف کی کتب کی تدریس بھی شروع کر دی۔

“نوجوانی کے ایام میں میں بہت مطالعہ کرتا تھا۔ نصاب کی کتب کے مطالعے کے علاوہ میں دوسری کتابیں بھی پڑھتا تھا۔ تاریخ کی کتابیں پڑھتا تھا، ادبیات کی کتابیں پڑھتا تھا، اشعار کی کتابیں پڑھتا تھا، ناول اور کہانیوں کی کتابیں بھی پڑھتا تھا۔ کہانیوں کی کتابوں سے مجھے بڑا لگاؤ تھا۔ نوجوانی بلکہ کم سنی میں ہی مجھے بہت سے شعرا کے دیوانوں سے واقفیت ہو چکی تھی۔ تاریخ کی کتب سے بھی مجھے لگاؤ تھا۔ چونکہ میں عربی زبان کی بھی تعلیم حاصل کر رہا تھا اور اس زبان سے آشنا تھا اس لئے حدیث سے بھی خاص نسبت تھی۔”